مری میں مرنے والے

بائیکاٹ مری کا آجکل دو دن شور ہوا اور پھر عثمان مرزا نے توجہ لے لی۔ ہماری قوم کا اٹینشن سپین بہت کم ہے۔ اب سے چند سال پہلے بھی مری کی ایک وڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں مقامی لوگ ایک فیملی سے بدتمیزی کر رہے تھے۔ خیر اس دفعہ جو مری میں ہوا وہ شائد کسی بھی جگہ آفت آنے پر ایسا ہی ہوتا ہے۔ اب جنگل میں جانور کم اور شہروں میں زیادہ ہیں۔

ہمارے چچا سردیوں میں رات نو بجے کا خبرنامہ ضرور دیکھتے تھے۔ ان کو علم اور ملکی حالات سے چنداں دلچسپی نہ تھی وہ تو بس ادھر خبرنامہ کے اختتام پر بتایا جاتا کہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں مری اور گلیات میں برف کا امکان ہے تو وہ اور ان کے دوست رات بارہ بجے والی بس پکڑ کر مری کو روانہ ہو جاتے تھے۔

وقت کے ساتھ اب مری کی طرف دباو بڑھ گیا ہے۔ اب ہر کسی کے پاس پیسہ ہے وہ گاڑیاں لے کر پہنچ جاتا ہے۔ نتیجہ ٹریفک بلاک رہتی ہے اس دفعہ بدقسمتی سے حالات زیادہ خراب ہوئے۔ اورحکومت کو گالیاں دینا ہمارا قومی فریضہ ہے جو ہم نے خوب انجام دیا شائد ہی کسی نے مرنے والوں کے لئے فاتحہ پڑھی ہو۔

کینیڈا ایک مہذب ملک ہے اور ادھر بہت سخت ٹھنڈ پڑتی ہے۔ مینی ٹوبا اور ملحقہ صوبوں میں منفی پچاس ڈگری تو عام سی بات ہے۔ ایسے میں جب برفانی طوفان آتے ہیں تو وہ اپنے ساتھ 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا کے جھکڑ بھی لاتے ہیں۔ ایسے میں 511 سروس پر بتا دیا جاتا ہے کہ کون کون سی سڑکیں بند ہیں۔ اب اگر آپ اس سڑک پر ہیں تو گاڑی سائیڈ پر لگا لیں ورنہ اگر آپ نہیں رکتے اور ایکسیڈینٹ ہو جاتا ہے تو انشورنس کور نہیں کرے گی نہ گاڑی کو نہ ایمرجنسی سروس کو۔ آپ کو ریسیکیو کرنے کو ہیلی کاپٹر آیا آپ کو پیسے دینے پڑیں گے انشورنس ایک ٹکا نہیں دے گی۔ گاڑی تباہ ہو گئی انشورنس ایک روپیہ نہیں دے گی۔

امریکہ میں چونکہ کینیڈا جتنے مہذب لوگ نہیں لہذا یہاں برف باری کے دوران خطرناک سڑکیں زبردستی بند کر دی جاتی ہیں پولیس اور گارڈر لگا کر آپ ایگزیٹ نکال کر ٹرک سٹاپ پر رات بسر کریں یا کسی سڑک کنارے گاڑی لگائیں یا کوئی موٹل لیں۔ یہ آپ کی اپنی زمہ داری ہے۔ کیوں؟ کیوں کہ طوفانوں کا اعلان ایک دو دن قبل کر دیا جاتا ہے آپ کو پتہ ہونا چاہئے کہ دوران طوفان گھر پر محفوظ رہیں۔

ہمارے ملک میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے لہذا اگر برف دیکھنے کا شوق ہے تو اس کے خطرات کو نظر انداز کرنا بہت بڑی بےوقوفی ہے۔ اللہ ان پر رحم کرے جو اس برف اور لالچ کی بھینٹ چڑھ گئے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *